کوئل

ایک آواز جو دلوں میں امنگ بھر دیتی ہے-
وہ پرندہ جس کے بچوں کو کوّا پالتا ہے-
ہر سال ہزاروں میل کا سفر طے کرنے والی کوئل!
کوئل کی کوکو سے جڑی ہزاروں یادیں 
من کی ہوک جگانے والی کوئل کی کوک!

دور کہیں کوئل کی کو ,کو 
گہرا جنگل , تم اور میں 
کاندھا تیرا اور سر میرا 
پاگل سی چپ, ,تم اور میں

اپریل کا مہینہ آیا ہی چاہتا ہے- ادھر آم کے درختوں پر بور لگنا شروع ہوا تو دوسری طرف اسی آم کے درخت سے کو ہو کو ہو کی آواز آنا شروع ہوجاتی ہے- صبح کے وقت باغوں سے کوئل کے کوکنے کی آواز دور دور تک سنی جا سکتی ہے یا پھر مئ جون کی سنسان چلچلاتی دوپہروں میں کوئل کی کوکو ایک عجیب سماں و ماحول بنادیتی ہے- لیکن یہ بی کوئل ہمیشہ پتوں میں چھپی بیٹھی ہوتی ہیں اور کم کم ہی نظر آتی ہیں- دوسری اہم بات یہ ہے کہ جو کوئل کی کوکو ہم سنتے ہیں وہ مادہ نہیں بلکہ نر کوئل کی ہوتی ہے جو مادہ کو رجھانے اور اپنے پاس بلانے کے لئے یہ بانسری بجاتا ہے تاکہ کب مادہ اس کی سریلی آواز پر ریجھ کر اس کے قریب آئے تو یہ اس کے ساتھ جنسی ملاپ کر کے اپنی نئ نسل کی آمد کی تیاری کریں- موسیقی سے رجھا کر مادہ کو پٹانے اور پھر انڈے بچے ہونے تک کا یہ عرصہ دو ماہ پر محیط ہوتا ہے جو عام طور پر اپریل اور مئ کے مہینے ہوتے ہیں- جون جولائ تک یہ بچے کافی بڑے ہوجاتے ہیں اور اگست تک ہزاروں میل دور اپنے وطن تک جانے کے لئے بازو و پر نکال لیتے ہیں- 
شکر ہے کہ ابھی مادہ کوئل اتنی ایڈوانس نہیں ہوئ ہے کہ پاکستان کی لبرل خواتین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نر کوئل کے سامنے یہ بینر لے کر احتجاج کرے کہ مجھے تمہاری کوک نہیں چاہئے میں خود بھی کوک سکتی ہوں یا اپنی کوک اپنے پاس رکھو مجھے تمہاری جنسی بھوک نہیں مٹانی وغیرہ وغیرہ- یہ الگ بات کہ ان کی لاکھ کوشش کے باوجود یہ صرف کیک کیک کی ہلکی سی آواز ہی نکال سکتی ہیں- دوسرا یہ کہ اگر مادہ کو انڈے نہیں پیدا کرنے تو نر کوئل کے کوکنے اور مادہ کو رجھانے کا بھی کوئ فائدہ نہیں ہوگا اور نتیجہ اس کا یہ نکلے گا کہ دو تین سال میں ہی کوئل کا وجود کرہ ارض سے نیست و نابود ہوجائے گا-

دنیا میں کچھ ایسے پرندے بھی پائے جاتے ہیں جن کی آواز اور نغمگی سننے والے کو مسحور کردیتی ہے اورانسان نغموں کی دنیا کی لطافتوں اور نیرنگیوں میں کھو جاتا ہے ۔ان پرندوں کی یہ دلکش اور شیریں آوازیں جب انسان کی سماعتوں سے ٹکراتی ہیں تو نہ صرف اس کے ذہن و دل کو شادابی عطا کرتی ہیں بلکہ اس کی روح کو بھی بالیدہ بنا دیتی ہے۔ایسی ہی خوبصورت آواز رکھنے والے ایک پرندے کا نام ہے ’’کوئل‘‘ Koel۔ یہ ہندوستان کا کافی معروف پرندہ ہے۔کوئل شاعروں اور عاشقوں کا محبوب پرندہ ہے جس کی کوک سن کر ان پر مسرت پھوٹ پڑتی ہے۔اسکی سریلی آواز نازک طبع لوگوں پر خوشگوار تاثرچھوڑتی ہے اس لئے صبح صادق وہ کوئل کی کوک سننے باغوں میں سیر کرنے نکلتے ہیں ،فلموں کے بے شمار گانے کوئل کی کوک سے منسوب ہیں ۔اسکو پیار محبت کی راگنی سے منسوب کیا جاتا اور محبوب کے دل میں تڑپ اور امنگ پیدا ہوتی ہے لیکن کیا کسی نے کوئل کو دیکھا بھی ہے کہ یہ کیسا پرندہ ہے جو باغوں میں اپنی کوک سے دلکشی اور رومانس کا سحر پھونک دیا کرتا ہے ۔

اس پرندے کا مشہور نغمہ ’’ کوؤ۔۔کوؤ۔۔کوؤ ۔۔‘‘ پر مشتمل ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اسی آواز کی وجہہ سے اس کا نام’’ کوئل‘‘ ہوا ،
یہ دراصل سنسکرت کا لفظ ہے جس کو اس کی آواز سے اخذ کیا گیا اور ’’کوکیلا‘‘ نام دیا گیا۔کوئل کا سائنسی نام
‏Eudynamys scolopaceus 
ہے اس کو ایشین کوئل بھی کہا جاتا ہے۔اس کو تیلگو میں بھی’’ کوکیلا‘‘ہی کہا جاتا ہے۔کوئل 
‏Cucoliformes 
سے تعلق رکھنے والا پرندہ ہے اس کا خاندان 
‏Cuculidae ہے اس میں کوئل کے علاوہ کوکو،
‏Roadrunners 
وغیرہ شامل ہیں ۔اس پرندے کا تذکرہ ہندوستانی شاعری میں زیادہ ہوتا ہے۔اردو شاعری میں کوئل کی آواز یعنی کوئل کی ’’کوک ‘‘کا ذکر زیادہ ہوتا ہے،یونانی تہذیب میں ھیرا دیوی کے لئے یہ پرندہ اہمیت کا حامل ہے۔یونانی مذہبی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے ہندوستانی تہذیب میں بھی یہ پرندہ ’’کام دیوا‘‘ کے لئے مقدس رہا ہے۔ ویدوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔
جب خوش الحان پرندوں اور ان کی آوازوں کی گفتگو چلی ہے تو یہاں یہ بتاتا ہوا آگے بڑھوں کہ سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کے مطابق دنیا کے مختلف پرندوں کی آواز ، نغمگی اور لحن کا جائزہ لینے کے بعد دس ایسے پرندوں کی فہرست مرتب کی ہے جن کی آواز انسانی دل میں مٹھاس بھر دیتی ہے۔
محقیقین نے دنیا کی سب سے زیادہ نغمگی رکھنے والی چڑیا کی حیثیت سے بلبل کو اول درجہ دیا ہے اگر دل لگا کر کوئی اس کو سننے لگے تو یہ آواز نجانے انسان کو کہاں کہاں کی سیر کروادیتی ہے۔دوسرے نمبر پر ان سائنسدانوں نے ہندوستانی چڑیا ، پانڈیچری کی ریاستی چڑیا کوئل کو رکھا ہے، اس کی آواز کی نغمگی اور خوش الحانی سننے سے تعلق رکھتی ہے 
کوئل کالے رنگ کا معروف پرندہ ہے۔ ’’نر’’کوئل گہرے چمکدار نیلگوں کالے رنگ کا پرندہ ہے جس کی چونچ زردی مائل سبز ہوتی ہے اور آنکھیں سرخ ہوتی ہیں جو تقریباً کوّے کے سائز کا ہوتا ہے لیکن کوّے کے مقابلے اسکا جسم پتلا ہوتا ہے اور اس کی دُم لمبی ہوتی ہے،مادہ کوئل کا رنگ بھی کالا ہوتا ہے لیکن اس پر ہلکے سفید رنگ کے دھبے یا لکیریں پائی جاتی ہیں۔اس پرندے کی لمبائی 12تا 18انچ ہوتی ہے،اس کا وزن دو سو سے تین سو گرام کے درمیان ہوتا ہے۔کوئل کی غذا نرم پھل جیسے انجیر، گلّر، کیلے وغیرہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پرندہ ، کیڑے مکوڑے کینچوے اور کبھی کبھی دوسرے پرندوں کے انڈے اور بیریز وغیرہ بھی استعمال کرتا ہے

آم کا موسم جب آتا ہے تو کوئل پرند کی بہار بھی اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ کوئل کی پسندیدہ آماجگاہ جنگلات ہیں مگر ان کی کچھ نسلیں شہروں میں بھی بسیرا کرلیتی ہیں۔ اردو زبان میں کوئل کی آواز کو انتہائی خوش الحان قرار دیا گیا ہے۔ غور کرنے پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کی آواز خوشی اور حزن و ملال دونوں کے حسین امتزاج کی بیک وقت حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے بے ساختہ کہا 
’’آم کی شاخ پہ کوئل کی کُوکُو ہردم 
کون سمجھے کہ یہ نغمہ ہے کہ نالہ اے دوست‘‘

اسی طرح اپنے رنگ و روپ کی وجہ سے ایک نظر میں کوئل کی پہچان محال ہے۔ کبیر داس کہتا ہے کہ

’’کاگا‘ کوئل دونوں کارے بیٹھے ایک ہی ڈار 
بھاشا سے پہچانو کیا کوئل کیا کاگ‘‘

اردو زبان میں بعض محاورے اور اصطلاحات بھی کوئل کی مناسبت سے رائج ہیں مثلاً ’’کوئل جیسی آواز ہونا‘‘ ’’کوئل کی طرح کُوکنا‘‘ ’’کالی کوئل‘‘ وغیرہ وغیرہ برصغیر میں بننے والی فلموں میں جو گیت لکھے گئے ہیں ان میں کوئل کا خاص طور پر ذکر ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان میں بننے والی ایک فلم کا نام بھی ’’کوئل‘‘ رکھا گیا ہے۔ گویا ’’کوئل‘‘ پرند برصغیر کی ثقافت میں ایک منفرد مقام کا حامل ہے۔
پروین شاکر کہتی ہیں
ہوا کی دُھن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
کوئل کُوکے جنگل کی ہریالی گائے
رُت وہ ہے جب کونپل کی خوشبو سُر مانگے
پُروا کے ہمراہ عُمریا بالی گائے

کم ہی لوگوں کو یہ علم ہے کہ کوئل ایک خانہ بدوش پرندہ ہے اور وہ خوراک کی تلاش اور موسموں کی سختیوں سے بچنے کی خاطر ہر سال ہزاروں میل کا سفر کرتا ہے۔ یورپ میں یہ ننھا پرندہ افریقہ سے طویل سفر کے بعد وہاں آتا ہے اور سردیاں شروع ہوتے ہی واپسی کی پرواز شروع کردیتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ یہ ننھی سی جان ہرسال دس ہزار میل سے زیادہ پرواز کرتی ہے۔
یہ پرندہ ہمیشہ درختوں پر زندگی گزارتا ہے عام طور پر پرندے کو زمین پر اترتے ہوئے نہیں دیکھا جاسکتا۔ نرکوئل موسم بہار میں صبح کی اولین ساعتوں ہی سے اپنی آوازکا جادو جگانا شروع کر دیتااس کی آواز دراصل’’ مادہ‘‘کو بلوانے کے لئے بھجوایا جانے والا پیغام ہے جس کا سلسلہ شام کے آخیر حصے تک چلتا رہتا ہے۔مادہ کی آواز میں وہ شیرینی اور نزاکت نہیں پائی جاتی بلکہ مادہ کوئل کی آواز صرف ’’ کِیک ۔۔ کِیک ۔۔ کِیک ۔۔ ‘‘ تک محدود ہوتی ہے ۔ جب کہ ’’نر‘‘ کوئل کی ’’کوک‘‘ میں مادہ کو رجھانے کی صلاحیت، ایک امنگ ،ایک مٹھاس اورایک حوصلہ پایا جاتا ہے۔کوئل کا یہ نغمہ دراصل اس کی بامعنی گفتگو کا انداز ہے ۔ سائنسدانوں نے بعد از تحقیقات یہ ثابت کیا ہے کہ پرندوں میں ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کار جحان پایا جاتا ہے ، پرندے بامعنی گفتگو کرتے ہیں اور بخوبی اپنی بات مقابل تک پہنچاتے ہیں۔صرف کوئل تک موقوف نہیں بلکہ بیشتر پرندے خوش گلوہوتے ہیں۔ان کی آواز سریلی اور دل کو لبھانے والی ہوتی ہے۔ ان کے دلکش راگ کو سن کر مادہ پرندے نر کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔اس طرح پرندوں کا یہ گانا ، یہ راگ ونغمہ چڑیا کو رجھانے اور انہیں قریب بلانے کے انداز ہیں تاکہ کورٹ شب انجام پاسکے، اسی لئے بعض سائنسداں اس کو نغمہ محبت قرار دیتے ہیں یعنی کوئل کی کوک ہو یا بلبل کا ترانہ ایک اشارہ ہے جس میں خوش الحان چڑیا نہ جانے کیاکیا عہدو پیمان بھردیتی ہے کہ اس کی جانب مادہ کی توجہ مبذول ہوجائے اور نسل کے تسلسل کاذریعہ چلتا ر ہے۔
دنیا میں انسانوں کی آبادیاں زائد از چالیس پچاس ہزار برس سے موجود ہیں اور کوّے کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ انسانی آبادیوں کے قریب آکر بس جاتا ہے اور جب کوّے کہیں آکر آباد ہوجاتے ہیں تو وہاں کوئل از خود پہنچ جاتی ہے اور خدا نے کوئل میں ایک عجیب صفت رکھی ہے کہ یہ پرندہ اپنا گھونسلہ نہیں بناتا ۔بلکہ یہ مختلف مقاصد کے لئے مختلف پرندوں کے گھونسلے استعمال کرتا ہے جیسے جب یہ پرندہ انڈے دینے کے در پر پہنچ جاتا ہے توعام طور پر دوسرے پرندوں بالخصوص ’’کوّے‘‘ کا گھونسلہ استعمال کرتا ہے اس عمل کو 
‏Brood Parasitism
کہا جاتا ہے۔ یعنی کوئل اپنے انڈے کوّے کے گھونسلے میں دیتی ہے جو ایک قدرتی طریقہ کار ہے، عام طور پر کوئل ایک گھونسلے میں ایک یا ایک سے زائد انڈا دیتی ہے ،تقریباً 12تا 20انڈوں تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے،کوئل یہ انڈے اُس وقت دیتی ہے جبکہ کوّا اپنے گھونسلے میں نہیں ہوتا۔کوئل کے انڈوں کو کوّا سیتا ہے یعنی کوئل کے انڈے کوّے کے انڈوں کے ساتھ حاضلہ پاتے ہیں یعنی
‏ Incubate 
ہوتے ہیں ۔کوئل اپریل سے اگسٹ کے درمیان میں انڈے دیتی ہے،کوئل کے انڈے کسی قدر چھوٹے ہوتے ہیں لیکن کوّا یہ فرق محسوس نہیں کر سکتااور یہاں خدا کی نشانی اور اس کی مصلحت ملاحظہ فرمائیے کہ کوّے کا بریڈنگ کا زمانہ بھی اپریل سے اگسٹ ہی ہوتا ہے۔ اس طرح کوئل اپنا گھونسلہ نہ ہونے کے باوجود بھی ان مراحل سے بآسانی گزرجاتی ہے اور یہ کوئی نہیں جانتا کہ ۔کیا۔کوّا اپنے اور کوئل کے انڈوں میں تمیز نہیں کرسکتا ،اگر اس میں صلاحیت ہو بھی تو اس معاملے میں وہ خدا کے ودیعت کردہ احکامات کا پابند ہے اور یہی جبلت ہے جو اس پرندے کے خون میں قدرت کا قانون بن کر دوڑ رہی ہے۔یہاں ایک بات مجھے اچھنبے میں ڈال دیتی ہے کہ قدرت کوّے کے گھونسلے میں پہلے کوئل کے انڈوں سے بچے نکالتی ہے، پہلے کوئل کے انڈے Hatchہوتے ہیںیعنی کوئل کے بچے انڈے توڑکر باہر آتے ہیں اور جب کوئل کے بچے اُڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو کوّے کے انڈے 
‏Hatch
ہونا شروع ہوتے ہیں – میری نظر میں یہ انتظام اتفاق نہیں ہوسکتا بلکہ کوئی قوت ہے جو اس نظام کو چلا رہی ہے اورشاید اسی کو قدرت کہا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق کوئل کے بچے گھونسلے کا دفاع کرتے ہوئے ایک بدبو دار سیال کا اخراج عمل میں لاتے ہیں جو ترشے، فینال، انڈول اور سلفر کے مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے یہی کوئل کے بچوں کا بہترین دفاعی ہتیار ہے ۔ 
‏Canestrari 
ایک مشہور محقق ہے جس نے ثابت کیا کہ یہ سیال اکثر حملہ آوروں جیسے بلی وغیرہ کو گھونسلے سے دور رکھتا ہے۔ لیکن اس عمل کے دوران کوئل کے بچے اپنے جسم کو مسلسل مرتعش یعنی 
‏Vibrate
کرتے رہتے ہیں جس کی وجہہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی کبھی کبھی کوّے کے بچے گھونسلے سے باہر گر جاتے ہیں۔
موسم گرما کے چار ماہ گزار کر خزاں کا موسم شروع ہوتے ہی کوئل اپنی واپسی کی پرواز شروع کرتی ہے اور مختلف راستوں سے اٹلی اور اسپین سے گذرتے، بحیرہ روم کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے افریقہ کے صحراے اعظم میں داخل ہوجاتی ہے اور سردیوں کے آغاز پر ایک برساتی جنگل میں پہنچ جاتی ہے- ۔ پھر جب موسم بدلنا شروع ہوتا ہے تو واپسی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور مختلف راستوں سے گزرتے اپریل کے آخر تک برطانیہ اور ایشیا کے مختلف ممالک پہنچ جاتی ہے-اور آم کے باغوں میں کوکتے ہیں اور کووں کے گھونسلے تلاشتے ہیں-
نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئل پرواز کے لیے مختلف راستے اختیار کرتا ہے۔ بالغ پرندے اپنا سفر پہلے شروع کرتے ہیں اور عموماً مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں برطانیہ یا ایشیا پہنچ جاتے ہیں اور پھر جولائی اگست میں ان کی واپسی شروع ہوجاتی ہے۔ جب کہ ان کے بچوں کی پرواز تقریباً ایک ماہ بعد شروع ہوتی ہے۔ صحراے اعظم عبور کرنے سے پہلے یہ پرندے کچھ عرصہ مغربی افریقہ میں رکتے ہیں اور اپنے قیام کے دوران معمول سے زیادہ خوراک کھاتے ہیں ،جس سے ان کے وزن اور جسم میں توانائی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اپنی اسی توانائی کے بل پر وہ صحرا ے اعظم عبور کرتے ہیں۔
اس مضمون کو تین مختلف مضامین سے اقتباسات لے کر ترتیب دیا گیا ہے-
‎1- “ سما ڈجیٹل میں احساس بھٹی کا مضمون “ ہم سب کوے ہیں
‎2-جہان اردو میں شائع شدہ ڈاکٹر عزیز احمد عرسی کا مضمون “ کوئل”
‎3-وکیپیڈیا
Sanaullah Khan Ahsan

Leave a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *