روٹی کہانی

روٹی جب آگ پر سیکی جاتی ہے تو اس پر پڑنے والے سیاہ نشانات کو پھول کہتے ہیں اور عمدہ پکی ہوئی روٹی وہ ہوتی یے جس پر خوبصورت یکساں پھول پڑیں
یہ نہ صرف خاتون خانہ کی مہارت تجربے اور تربیت کا نازک امتحان ہوتا ہے. بلکہ کسان کی محنت ، گندم کے معیار اور آٹا پیسنے والی چکی پر بھی منحصر ہوتا ہے. کہ کسان نے بیج ڈالنے سے پہلے کھیت میں کتنا ہل چلایا اور پانی کا مٹی کے ساتھ تناسب کیسا رکھا .
بچپن میں کسان کی بہو والی کہانی کس نے نہیں پڑھ رکھی جس کے سسرال کا گوندھا آٹا کاگا چونچ میں بھر کر لے اڑا تو بی بہو نے ہنس کر کہا ارے کاگا ہوتا نا یہ میرے باوا کا گھر پھر تم آٹا چھین کر لے جاتے تو مانتی. کسان کو یہ بات بری لگی اس کے استفسار پر بہو نے کہا اباجی اگلی دفعہ گندم کی بوائی سے پہلے جب زمین تیار کر لیں تو بیج بونے سے پہلے مجھے دکھا لیں. 
لیں جی بات طے ہو گئی . بوائی کے موسم میں کسان اور اس کے بیٹوں نے خوب محنت سے ہل چلایا اپنے تئیں زمین تیار کر کے بہو بیگم کو خبر کی کہ آؤ زمین دیکھو اور بتاؤ کہ بیج ڈالا جائے یا نہیں. بہو بیگم نے پانی سے بھرا مٹکا سر پر رکھا اور کھیت میں جا پہنچی . وہاں جا کر اپنے سر سے مٹکا اٹھا کر زور سے سینچی زمین پر گرایا . مٹکا پھوٹ گیا اور تمام پانی بہہ گیا. بہو نے بیج ڈالنے سے منع کر کے مزید ہل چلانے کو کہا. کسان اور اس کے بیٹوں نے خوب محنت کی اور پورے کھیت میں پھر سے ہل چلایا. بہو نے پھر پانی سے بھرا مٹکا گرایا. جو ایک بار پھر ٹوٹ گیا . بہو نے زمین کی تیاری کو ناکافی قرار دیا اور ہنس کر گھر چل دی. 
کسان اور اس کے بیٹوں نے تیسرے روز مزید محنت کی .مٹی خوب نرم اور بھربھری ہوا دار ہو چکی تھی. اس روز مٹکا گرایا گیا تو وہ ٹوٹنے کی بجائے مٹی نرم اور مکمل بھربھری 
زمین میں دھنس گیا اور سلامت رہااس دفعہ بہو نے زمین کو بیج ڈالنے کے لیے مناسب قرار دیا. 
بیج ڈالا گیا خوب اچھی فصل ہوئی. 
گندم کی سنہری بالیں گھر لائی گئیں . بہو نے خوب اچھی طرح چھان پھٹک کر چکی پر آٹا پیسا. اب صحن میں پرات میں آٹا گوندھنے بیٹھی تو کاگا پھر سے آٹا چھیننے کے لیے آیا لیکن اس دفعہ کاگا کی چونچ آٹے میں پھنسی رہ گئی. کیونکہ زمین پر زیادہ محنت کی وجہ سے گندم کا معیار بہتر تھا اور آٹا بھی لیس دار تھا

ضرب المثل یہ ہے کہ

سائیں اکی سییاں لائیاں،
نوں نو مٹھیاں دے پکائیاں، ، 
چل آُڈ جھلیا کانواں چونچاں کتھ پھسایاں

سائیں نے زمین میں اکیس بار ہل چلایا، 
بہو نے نو مرتبہ اپنی مٹھیوں سے آٹے کو گوندھا ہے،
تو، اے نادان کوے، تم نے کس آٹے میں چونچ مار کے پھنسا لی ہے
یہ تو بچپن کا سبق یاد آ گیا .

آج کل گندم میں سے اجزا الگ کر دیے جاتے ہیں مثلا سوجی میدہ اور چھان. اس کی روٹی تو پک جاتی ہے لیکن سفید بےجان سے ربڑ جیسی. خود گندم دے کر چکی سے باریک آٹا پسوایے. اس کو بنا چھانے گوندھیے. خوب محنت سے آٹے کو مکیاں دی جائیں. (مکیاں دینا ..فولڈ کرنا) اس میں معمولی مقدار میں نمک ملا لیجیے. آٹا نسبتا نرم گوندھیے. اس میں پسندیدگی کے لحاظ سے مکھن مارجرین دیسی گھی یا آئل کی خفیف سی مقدار بھی شامل کر دیجیے. 
آٹا گوندھنے اور روٹی پکنے کے درمیان کم از کم ایک گھنٹے کا وقفہ دیجیے. زیادہ وقفہ آٹے کو سیزن کرتا ہے. بس آٹا خراب نہ ہو،خراب ہونے سے بچاؤ کے لیے اس دوران آٹے کو ٹھنڈی سایہ دار جگہ مثلا فریج میں رکھ دیجیے . روٹی پکانے سے دس منٹ پہلے آٹے کو کمرے کے درجہ حرارت پر رکھ لیا جائے تو پیڑا بنانا اور روٹی بیلنا آسان ہو جاتا ہے. 
درمیانہ سائز کا پیڑا بنایے اور اسے کم سے کم خشکے کے ساتھ یکساں باریک بیل لیجیے. بھاری پیڑے سے روٹی موٹی اور کچی رہے گی جبکہ بہت چھوٹے پیڑے کی روٹی اکڑ کر پاپڑ بن جائے گی. زیادہ خشکا بھی روٹی پر سے جھڑتا ہے یہ خاتون کی بدسلیقگی پر دال ہوتا ہے . 
توے کو ہر نئی روٹی ڈالنے سے پہلے کپڑے سے صاف کرنے کی عادت بنایے اس سے پچھلی روٹی کا جھڑا ہوا خشکا جو نئی روٹی کے ڈالنے تک براؤن یا سیاہ پاؤڈر کی شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے اس سے نجات مل جائے گی 
توا پہلے سے تیز گرم کر لیں اور آگ دھیمی کر دیں . روٹی ڈالنے کے بعد آگ بڑھائی جا سکتی ہے اگر نان اسٹک توا نہیں ہے تو اس پر ہلکا سا آئل یا گھی لگا کر کپڑے سے صاف کر لیں . یہ بھی نان اسٹک ہو جائے گا . 
اب روٹی کو توے پر ڈالیے . جیسے ہی ایک سائیڈ ہلکی سی پک جائے . بس اتنی کہ روٹی پلٹنے پر ٹوٹے نہیں تو اسے پلٹ دیں اس طرح جلد پلٹنے سے روٹی خوب پھولتی ہے اور اس پر پھول بھی عمدہ آتے ہیں. 
اپنی عادت کے مطابق کپڑے یا چمٹے کی مدد سے روٹی کو توے پر گھماتے رہیے یاد رکھیں اب آپ نے سائیڈ نہیں پلٹنی جب تک یہ سائیڈ مکمل پک نہ جائے . اگر آپ پھلکا کھانا چاہتے ہیں تو کپڑے کے ہلکے دباؤ سے روٹی کو ہلاتے رہیے .روٹی پھولنا شروع ہو جائے گی. مہارت ہو تو توا ایک سایڈ پر کر لیجیے اور توے کے کنارے سے نکلنے والے آگ پر روٹی کے کنارے گھما گھما کر سینک لیجیے . یا سیدھے سبھاؤ توا ہٹا کر ڈائریکٹ آگ پر روٹی پکائیں اس صورت میں کپڑے کی بجائے اسٹیل کا چمٹا استعمال کیا جائے گا. 
ایک سائیڈ کے پک جانے کے بعد روٹی کو پلٹیں اور دوسری طرف سے بھی سینک لیں. گرما گرم پھلکا تیار ہے. 
کہاوت ہے کہ کھانے والے کو جتنی تیز بھوک لگی ہوتی ہے روٹی اتنی ہی پھولتی ہے. 
روٹی میں فلیورز بڑھانے کے لیے آٹے میں مختلف اشیا مثلا خمیر، سونف، دھنیا ، میتھی، اجوائن ،سادہ یا بھنا زیرہ ڈال کر روٹی کا لطف لیجیے. 
گرما گرم پھلکے پر تازہ مکھن ڈال کر اسے تہہ کر دیں مکھن پگھل کر روٹی میں جذب ہو جائے گا اور اس کی دلفریب مہک اور لذت آپ کے معدے اور صبر کا کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے. . 
سالن کوئی بھی ہو ایسی پیار بھری روٹی اس کھانے کا لطف شرطیہ دوبالا کر دیتی ہے

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

Leave a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *