حسن معاشرت

کالم: علامہ ابتسام الہی ظہیر

چند روز قبل میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی کہ ایک عورت نے اپنے شناسا سے مل کر اپنے شوہر کو قتل کر دیا۔ یہ خبر یقینا اپنی نوعیت کی پہلی خبر نہیں‘ بلکہ بیویوں کا اپنے شوہروں کے حوالے سے اس قسم کا رویہ اور شوہروں کا اپنی بیویوں کے ساتھ اس قسم کا طرز عمل ذرائع ابلاغ کے ذریعے پڑھنے ‘سننے اور دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ درحقیت شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے شریک زندگی ہیں اور ان کو ہمہ وقت ایک دوسرے کی خیر خواہی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایا کہ ”وہ تمہار لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ ‘‘اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نساء کی آیت نمبر 19 میں اس امر کا اعلان فرمایا ”اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو‘‘۔ اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت نمبر 228 میں ارشاد ہوا ”اور ان (عورتوں) کے لیے (ویسے ہی حقوق ہیں) جس طرح ان پر (مردوں کے حقوق ہیں) دستور کے مطابق‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا اور انسانوں کی غالب اکثریت زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر نکاح کے بندھن میں ضرور بندھ جاتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپؑ کی پسلی سے اماں حواؑ کو پیدا کیااور حضرت آدم علیہ السلام اور آپؑ کی زوجہ کو جنت میں مقیم کیا۔ جہاں پر وہ ایک عرصے تک جنت کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے رہے اور بعدازاں شجر ممنوعہ کے دانے کو کھانے کے سبب ان کو دنیا میں منتقل ہونا پڑا۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نباء کی آیت نمبر 8 میں اس بات کا اعلان فرمایا ”اور ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا۔‘‘
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ روم کی آیت نمبر 21 میں ارشاد فرماتے ہیں ”اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے نفسوں سے بیویوں کو پیدا کیا‘ تاکہ تم سکون کو حاصل کرو ان کی طرف اور اس نے بنا دی تمہارے درمیان محبت اور مہربانی۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں میں صنف مخالف کی جو کشش رکھی ہے‘ اس کے سبب انسانی معاشرے میں نئے خاندان تشکیل پاتے ہیں اور انسان اپنی شریک حیات کے ساتھ اپنے معاملات کے اشتراک کے سبب زندگی کی سرگرمیوں میں احسن طریقے سے حصہ لیتے ہوئے نظر آتا ہے۔ 
حضرت رسول اللہﷺ ازواج مطہرات کے ساتھ بہترین معاملہ فرماتے رہے۔ دینی اور معاشرتی مشغولیات کے باوجود امور خانہ داری میں ان کا ساتھ دیتے رہے اور آپﷺ نے اس امر کا بھی اعلان فرما دیا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے‘ جو اپنے اہل سے بہترین سلوک کرنے والا ہو اور میں اپنے اہل سے بہترین سلوک کرنے والا ہوں‘‘۔ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات میں سے حضرت خدیجہؓ اور حضرت عائشہؓ کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ نے دعوت دین کے دوران آنے والی تکالیف کے دوران نبی کریمﷺ کی بھرپور انداز سے دلجوئی کی‘ جبکہ حضرت عائشہؓ نے آپؐ کے فرامین مبارک کو یا د بھی کیا اور ان کو آنے والی نسلوں تک بھی منتقل کیا۔ حضرت عائشہؓ نے پردے میں رہنے کے باوجود نبی کریمﷺ کے ارشادات عالیہ اور سنت مطہرہ کی ترسیل اور تدریس میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 
حضرت فاطمۃ الزہراؓ کا کردار بیوی کی حیثیت سے بھی مثالی رہا۔ آپؓ نے حضرت علی المرتضیٰؓ کے ساتھ ہمیشہ تابعدار ی اور فرمان برداری والا رویہ رکھا اور آپ نے جس انداز میں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہماکی تربیت کی‘ وہ آپؓ کے مثالی بیوی اور غیر معمولی ماں ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
جس طرح نکاح کرنا اور بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ایک مستحسن عمل ہے اسی طرح بدکرداری کا ارتکاب کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ امر ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 32 میں ارشاد فرمایا ”اور تم زنا کے قریب مت جاؤ۔‘‘گویا کہ زنا کرنا ایک ناپسندیدہ عمل ہے‘ اس کے قریب جانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ زنا سے بچاؤ کے لیے اسلام نے پردے داری کے ساتھ ساتھ نکاح کا تصور پیش کیا ہے‘ جس پر عمل پیرا ہو کر بدکرداری سے بچا جا سکتا ہے۔بخاری ومسلم شریف کی روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ”اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں سے جو کوئی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کرے‘ کیونکہ یہ (شادی) نگاہوں کو بہت جھکانے والی اور شرم گاہ کی خوب حفاظت کرنے والی ہے اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھے ‘ پس یہ اس کے لیے ڈھال ہو گا۔نبی کریمﷺ نے صرف برائی ہی کی مذمت نہیں‘ بلکہ شکوک وشبہات کے دروازے بند کرنے کی بھی تلقین کی ہے۔ ‘‘
صحیح بخاری میں علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ( اعتکاف میں ) تھے آپ کے پاس ازواج مطہرات بیٹھی تھیں۔ جب وہ چلنے لگیں تو آپ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ جلدی نہ کر‘ میں تمہیں چھوڑنے چلتا ہوں۔ ان کا حجرہ دار اسامہ رضی اللہ عنہ میں تھا؛ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تو دو انصاری صحابیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی۔ ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور جلدی سے آگے بڑھ جانا چاہا‘ لیکن آپ نے فرمایا ٹھہرو! ادھر سنو! یہ صفیہ بنت حیی ہیں ( جو میری بیوی ہیں ) ان حضرات نے عرض کی‘ سبحان اللہ! یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا کہ شیطان ( انسان کے جسم میں ) خون کی طرح دوڑتا ہے اور مجھے خطرہ یہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی ( بری ) بات نہ ڈال دے۔ 
ہمارے معاشرے میں مرد اور زن کے درمیان بگاڑ میں جہاں پر خودغرضی اور خود پسندی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے‘ وہیں پر میڈیا اور ذرائع ابلاغ اور بری صحبت نے بھی مردو زن کے ذہن پر غلط قسم کے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جب ہم کتب احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مرد اور عورتوں کو ایک دوسرے کی خیر خواہی کے لیے کس قسم کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں: 
1۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنے محرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے اور کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس وقت تک نہ جائے جب تک وہاں ذی محرم موجود نہ ہو۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں فلاں لشکر میں جہاد کے لیے نکلنا چاہتا ہوں‘ لیکن میری بیوی کا ارادہ حج کا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کو جا۔ 
2۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںمجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور پھر دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں‘ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیکن اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں ( بیداری کی وجہ سے ) بیٹھ جائیں گی اور تیری جان ناتواں ہو جائے گی۔ یہ جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور بیوی بچوں کا بھی۔ اس لیے کبھی روزہ بھی رکھو اور کبھی بلا روزے کے بھی رہو‘ عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ 
3۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بیوی اپنے خاوند کے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے اور اس کی نیت اسے برباد کرنے کی نہیں ہوتی تو اسے بھی اس کا ثواب ملتا ہے اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح خزانچی کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے۔ 
4۔صحیح بخاری میں مذکور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی بیوی ( نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آنے کی ) اس سے اجازت مانگے تو شوہر کو چاہیے کہ اس کو نہ روکے۔ 
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔ شوہر اوربیوی کے خوشگوار تعلقات کی وجہ سے جہاں پر گھر کا ماحول خوش گوار اور پرسکون ہو جاتا ہے ‘وہیں پر بچوں کی نفسیات اور تعلیم وتربیت پر بھی اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *