احساس کی گہرائی

تحریر : عابی مکھنوی

ہماری دفتر میں حاضری صُبح ساڑھے سات بجے اور چُھٹی سہ پہر ساڑھے تین بجے ہوتی ہے !! کل دفتر سے واپسی پر کسی کام سے طارق روڈ جانا ہوا !! واپسی پر شاہراہ فیصل تک پہنچتے پہنچتے پانچ بج چُکے تھے !! کارساز تک سُکون رہا !! آگے بدترین ٹریفک جام !! بائیک کا کلچ !! بریک اور ریس !! انچ بہ انچ تڑپنے لگے !! وقت گزاری کو ماحول کا جائزہ لیا تو !! تین چار کار آگے قیدیوں کو لانے لے جانے والی ایک وین نظر آئی !! اُس کے سائلنسر کے شور نے سائلنسر کی معنی ہی بدل رکھے تھے !! کالا دُھواں مارتا سائلنسر !! قیدیوں کی رکھوالی کرنے والے پولیس اہلکار کے عقبی کیبن کے کھڑکھڑاتے دروازے !! اور وین کے دائیں بائیں دیوار کی بالائی سطح پر بنی آدھ فُٹ کے برابر جالیاں !! جالیوں میں پھنسی گوری کالی سانولی نرم سخت اور چھوٹی بڑی اُنگلیاں !!! مُجھے کبھی موقع نہیں مِلا کہ اس وین کے اندر سے باہر کی دُنیا دیکھ سکوں !! دیوار کی اونچائی سے لگ رہا تھا کہ صرف سیدھے کھڑے ہو کر باہر کا منظر نہیں دیکھا جا سکتا !! ایڑھیاں اُٹھانی پڑتی ہوں گی !!میں نے تین چار کاروں کو کراس کر کے !! وین کی دائیں سمت کا جائزہ لیا !! صرف اُنگلیاں اور انگوٹھے ہی سلاخوں میں پھنسے نظر آئے !! بائیں طرف گیا تو وہاں بھی کوئی چہرہ سلاخوں کے اُس پار نظر نہ آیا !!!اُنگلیاں !! انگوٹھے !! پوریں !! اور ادھوری ہتھیلیاں !!!یہ سب مُلزم تھے مُجرم نہیں کہ مُجرم کے عدالت کے چکر نہیں لگتے وہ صرف سزا بُھگتتا ہے !! اِن میں سے بھی کُچھ مُجرم ثابت ہو جائیں گے !! کُچھ اصلی !! کُچھ نااہل معصوم !! جو اپنی شرافت ثابت نہیں کر سکیں گے !! لیکن موضوع جُرم نہیں !! عدل بھی نہیں !!اُنگلیاں !! انگوٹھے !! پوریں !! اور ادھوری ہتھیلیاں !!! ہیں !!!ایسے لگا جیسے اُنگلیوں !! انگوٹھوں !! پوروں !! اور ادھوری ہتھیلیوں پر آنکھیں اُگ آئی ہوں !! جیسے اُنہیں سب نظر آ رہا ہو!! سوزوکی موٹرز کا شو رُوم !! دائیں ہاتھ پر !! بائیں ہاتھ پر ائر وار کالج کی دیوار کے ساتھ ساتھ چہچہاتا سبزہ !! ڈرگ روڈ پر کسی عظیم منصوبے کی شان میں کھودا گیا گہرا کھڈا !! چمچماتی کاریں !! سرسراتی موٹر سائیکلیں !! موٹر سائیکلوں پر سامان کی فہرست سوچتے پریشان حال چہرے !!اُنگلیاں !! انگوٹھے !! پوریں !! اور ادھوری ہتھیلیاں !!! ہی تو مِل کے ہاتھ بناتی ہیں !! اور کسی بھی کام کے اچھے یا بُرا ہونے کا فیصلہ دماغ صادر کرتا ہے !! کام کو انجام ہاتھ اور پاؤں دیتے ہیں !! سزا آنکھوں کو مِلتی ہے !!کہ پھر انہیں اُنگلیوں !! انگوٹھوں !! پوروں !! اور ادھوری ہتھیلیوں پر اُگنا پڑتا ہے !! فضول منظر دیکھنے کی حسرت میں !!سوزوکی موٹرز کا شو رُوم !! ائر وار کالج کی دیوار کے ساتھ ساتھ چہچہاتا بے کار سا سبزہ !! ڈرگ روڈ پر کسی عظیم منصوبے کی شان میں کھودا گیا گہرا کھڈا !! پرائی چمچماتی کاریں !! کھڑکھڑاتی موٹر سائیکلیں !! موٹر سائیکلوں پر سامان کی فہرست سوچتے پریشان حال چہروں جیسے فضول مناظر !!کم ظرف انسان کی طرف سے اپنی ہی نوع کے لیے بنائی گئی گھٹیا وین اور سڑیل جیل !!! بُلٹ پروف شیشے بھی لگائے جا سکتے تھے !! اُنگلیاں !! انگوٹھے !! پوریں !! اور ادھوری ہتھیلیاں !!! ٹکے ٹکے کے مناظر کو یُوں تو نہ گھورتیں !!!میرے رب کا ظرف !!! سبحان اللہ !! “” یہ دُنیا مومن کے لیے جیل ہے قید خانہ ہے “” لیکن اس میں اُنگلیوں !! انگوٹھوں !! پوروں !! اور ادھوری ہتھیلیوں پر آنکھوں کو نہیں اُگنا پڑتا !!!آنکھوں کو اِذن ہے کہ دیکھو جہاں تک دیکھ سکتی ہو !!! ادنٰی سا تقاضا ہے بس !! کہ دیکھنے کا ایک حق ہے !! وہ ادا کرنا ہے !! بس ادنٰی سا ایک حق !!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Leave a Reply

Your e-mail address will not be published. Required fields are marked *